کلامِ آتشردیف الف

چمن میں شب کو جو وہ شوخ بے نقاب آیا

۱

چمن میں شب کو جو وہ شوخ بے نقاب آیایقین ہو گیا شبنم کو آفتاب آیا

۲

ان انکھڑیوں میں اگر نشۂ شراب آیاسلام جھک کے کروں گا جو پھر حجاب آیا

۳

کسی کے محرم آب رواں کی یاد آئیحباب کے جو برابر کبھی حباب آیا

۴

شب فراق میں مجھ کو سلانے آیا تھاجگایا میں نے جو افسانہ گو کو خواب آیا

۵

عدم میں ہستی سے جا کر یہی کہوں گا میںہزار حسرت زندہ کو گاڑ داب آیا

۶

چکور حسن مہ چار دہ کو بھول گیامراد پر جو ترا عالم شباب آیا

۷

محبت مے و معشوق ترک کر آتشؔسفید بال ہوئے موسم خضاب آیا

۳۸ / ۱۰۵