کلامِ آتشردیف الف

یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیا

۱

یار کو میں نے مجھے یار نے سونے نہ دیارات بھر طالع بیدار نے سونے نہ دیا

۲

خاک پر سنگ در یار نے سونے نہ دیادھوپ میں سایۂ دیوار نے سونے نہ دیا

۳

شام سے وصل کی شب آنکھ نہ جھپکی تا صبحشادیٔ دولت دیدار نے سونے نہ دیا

۴

ایک شب بلبل بے تاب کے جاگے نہ نصیبپہلوئے گل میں کبھی خار نے سونے نہ دیا

۵

جب لگی آنکھ کراہا یہ کہ بد خواب کیانیند بھر کر دل بیمار نے سونے نہ دیا

۶

درد سر شام سے اس زلف کے سودے میں رہاصبح تک مجھ کو شب تار نے سونے نہ دیا

۷

رات بھر کیں دل بے تاب نے باتیں مجھ سےرنج و محنت کے گرفتار نے سونے نہ دیا

۸

سیل گریہ سے مری نیند اڑی مردم کیفکر بام و در و دیوار نے سونے نہ دیا

۹

باغ عالم میں رہیں خواب کی مشتاق آنکھیںگرمیٔ آتش گلزار نے سونے نہ دیا

۱۰

سچ ہے غم خواریٔ بیمار عذاب جاں ہےتا دم مرگ دل زار نے سونے نہ دیا

۱۱

تکیہ تک پہلو میں اس گل نے نہ رکھا آتشؔغیر کو ساتھ کبھی یار نے سونے نہ دیا

۳۹ / ۱۰۵