کلامِ آتشردیف ے

دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسے

۱

دہن پر ہیں ان کے گماں کیسے کیسےکلام آتے ہیں درمیاں کیسے کیسے

۲

زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیابدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

۳

تمہارے شہیدوں میں داخل ہوئے ہیںگل و لالہ و ارغواں کیسے کیسے

۴

بہار آئی ہے نشہ میں جھومتے ہیںمریدان پیر مغاں کیسے کیسے

۵

عجب کیا چھٹا روح سے جامۂ تنلٹے راہ میں کارواں کیسے کیسے

۶

تپ ہجر کی کاہشوں نے کئے ہیںجدا پوست سے استخواں کیسے کیسے

۷

نہ مڑ کر بھی بے درد قاتل نے دیکھاتڑپتے رہے نیم جاں کیسے کیسے

۸

نہ گور سکندر نہ ہے قبر دارامٹے نامیوں کے نشاں کیسے کیسے

۹

بہار گلستاں کی ہے آمد آمدخوشی پھرتے ہیں باغباں کیسے کیسے

۱۰

توجہ نے تیری ہمارے مسیحاتوانا کئے ناتواں کیسے کیسے

۱۱

دل و دیدۂ اہل عالم میں گھر ہےتمہارے لیے ہیں مکاں کیسے کیسے

۱۲

غم و غصہ و رنج و اندوہ و حرماںہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے

۱۳

ترے کلک قدرت کے قربان آنکھیںدکھائے ہیں خوش رو جواں کیسے کیسے

۱۴

کرے جس قدر شکر نعمت وہ کم ہےمزے لوٹتی ہے زباں کیسے کیسے

۶۹ / ۱۰۵