کلامِ آتشردیف ے
تازہ ہو دماغ اپنا تمنا ہے تو یہ ہے
تازہ ہو دماغ اپنا تمنا ہے تو یہ ہےاس زلف کی بو سونگھئے سودا ہے تو یہ ہے
قینچی نہیں چلوائی مرے نامہ نے کس پرپروار کبوتر ہو جو عنقا ہے تو یہ ہے
کچھ سرو کا رتبہ ہی نہیں قد سے ترے پستشمشاد او صنوبر سے بھی بالا ہے تو یہ ہے
ملتا جو نہیں یار تو ہم بھی نہیں ملتےغیرت کا اب اپنے بھی تقاضا ہے تو یہ ہے
اے نور نظر معجزۂ حسن سے تیرےاندھے بھی کہیں گے کہ مسیحا ہے تو یہ ہے
محشر کو بھی دیدار کا پردہ نہ کرے یارعاشق کو جو اندیشۂ فردا ہے تو یہ ہے
بینا ہوں جو آنکھیں تو رخ یار کو دیکھیںنظارہ کے قابل جو تماشا ہے تو یہ ہے
مضموں دہن یار کا کیا فکر سے نکلےلاحل جو معموں میں معما ہے تو یہ ہے
گہہ یاد صنم دل میں ہے گہہ یاد الٰہیکعبہ ہے تو یہ ہے جو کلیسا ہے تو یہ ہے
معشوق و مے و خانۂ خالی و شب ماہعاشق کے لیے حاصل دنیا ہے تو یہ ہے
دیوانے نہ کیوں کر خل و زنجیر پہنتےسرکار جنوں کا جو سراپا ہے تو یہ ہے
دل کے لیے ہے عشق تو دل عشق کی خاطرمے ہے تو یہ ہے اور جو مینا ہے تو یہ ہے
دیوانۂ قد کے کبھی نالوں کو تو سنیےہنگامۂ محشر کا سا غوغا ہے تو یہ ہے
ثابت دہن یار دلیلوں سے کر آتشؔحجت کی جو شاعر کے لیے جا ہے تو یہ ہے
۷۰ / ۱۰۵