کلامِ آتشردیف ی
کون سے دل میں محبت نہیں جانی تیری
کون سے دل میں محبت نہیں جانی تیریجس کو سنتا ہوں وہ کہتا ہے کہانی تیری
کچھ دہن ہی نہیں وہم شعرا کے نزدیکمو سے باریک کمر بھی ہے گمانی تیری
جس کے آگے سے گزرتا ہے وہ کہتا ہے یہیدیکھی اے روح رواں ہم نے روانی تیری
شیشۂ مے سے کوئی میری زبانی کہہ دےخوش نہیں آتی ہے یہ پنبہ دہانی تیری
کیا تری شان ہے قربان ہوں اے عفو کریمآس رکھتا ہے ہر اک فاسق و زانی تیری
اس خرابی میں ترے واسطے پھرتے ہیں خرابجستجو ہم کو ہے اے کنج نہانی تیری
عین احساں ہے مرے صفحۂ دل پر مجھ کوایک تصویر اگر کھینچ دے مانیؔ تیری
صبح تک شام سے کرتی ہے زباں ذکر جمالنیند آتی ہے کسے سن کے کہانی تیری
مثل گل ہنس کے کسی روز تو دل کو خوش کرخوں رلاتی ہے ہمیں غنچہ دہانی تیری
ناز و انداز و ادا میں ہے ترقی دہ چندفتنہ طفلی تھی قیامت ہے جوانی تیری
کون سے غلہ کا دانہ تو اے دانۂ خالہم نے ارزانی میں بھی پائی گرانی تیری
گرم جوشی سے جلایا کرے کشف و خرمنبرق ہو سکتی نہیں شوخی میں ثانی تیری
جان کی طرح سے رکھتا ہے عزیز اے گل روداغ دل لالہ نے سمجھا ہے نشانی تیری
مصرع تیغ ہے ہر مصرع موزوں آتشؔدیکھ لی یار مری سیف زبانی تیری
۶۸ / ۱۰۵