کلامِ آتشردیف ے
سر شمع ساں کٹائیے پر دم نہ ماریے
۱
سر شمع ساں کٹائیے پر دم نہ ماریےمنزل ہزار سخت ہو ہمت نہ ہاریے
۲
مقسوم کا جو ہے سو وہ پہنچے گا آپ سےپھیلائیے نہ ہاتھ نہ دامن پساریے
۳
طالب کو اپنے رکھتی ہے دنیا ذلیل و خوارزر کی طمع سے چھانتے ہیں خاک نیاریے
۴
تنہائی ہے غریبی ہے صحرا ہے خار ہےکون آشنائے حال ہے کس کو پکاریے
۵
تم فاتحہ بھی پڑھ چکے ہم دفن بھی ہوئےبس خاک میں ملا چکے چلئے سدھاریے
۷۱ / ۱۰۵