کلامِ آتشردیف ے

رفتگاں کا بھی خیال اے اہل عالم کیجئے

۱

رفتگاں کا بھی خیال اے اہل عالم کیجئےعالم ارواح سے صحبت کوئی دم کیجئے

۲

حالت غم کو نہ بھولا چاہئے شادی میں بھیخندۂ گل دیکھ کر یاد اشک شبنم کیجئے

۳

عیب الفت روز اول سے مری طینت میں ہےداغ لالہ کے لیے کیا فکر مرہم کیجئے

۴

اپنی راحت کے لیے کس کو گوارا ہے یہ رنجگھر بنا کر گردن محراب کو خم کیجئے

۵

عشق کہتا ہے مجھے رام اس بت وحشی کو کرحسن کی غیرت اسے سمجھاتی ہے رم کیجئے

۶

رات صحبت گل سے دن کو ہم بغل خورشید سےرشک اگر کیجے تو رشک بخت شبنم کیجئے

۷

دیدہ و دل کو دکھایا چاہئے دیدار یارحسن کے عالم سے آئینوں کو محرم کیجئے

۸

شکل گل ہنس ہنس کے روز وصل کاٹے ہیں بہتہجر کی شب صبح رو کر مثل شبنم کیجئے

۹

تھی سزا اپنی جو شادی مرگ قسمت نے کیاہجر میں کس نے کہا تھا وصل کا غم کیجئے

۱۰

آپ کی نازک کمر پر بوجھ پڑتا ہے بہتبڑھ چلے ہیں حد سے گیسو کچھ انہیں کم کیجئے

۱۱

اٹھ گئی ہیں سامنے سے کیسی کیسی صورتیںروئیے کس کے لیے کس کس کا ماتم کیجئے

۱۲

روز مردم شب کیے دیتا ہے سرمہ پوچھیےخون ہوتے ہیں بہت شوق حنا کم کیجئے

۱۳

آئینہ کو روبرو آنے نہ دیجے یار کےشانہ سے آتشؔ مزاج زلف برہم کیجئے

۷۲ / ۱۰۵