کلامِ آتشردیف ے
خواہاں ترے ہر رنگ میں اے یار ہمیں تھے
خواہاں ترے ہر رنگ میں اے یار ہمیں تھےیوسف تھا اگر تو تو خریدار ہمیں تھے
بیداد کی محفل میں سزا وار ہمیں تھےتقصیر کسی کی ہو گنہ گار ہمیں تھے
وعدہ تھا ہمیں سے لب بام آنے کا ہوناسایہ کی طرح سے پس دیوار ہمیں تھے
کنگھی تری زلفوں کی ہمیں پر تھی مقررآئینہ دکھاتے تجھے ہر بار ہمیں تھے
نعمت تھی ترے حسن کی حصہ میں ہمارےتو کان ملاحت تھا خریدار ہمیں تھے
سودا زدہ زلفوں کا نہ تھا اپنے سوا ایکآزاد دو عالم تھا گرفتار ہمیں تھے
تو اور ہم اے دوست تھے یک جان دو قالبتھا غیر سوا اپنے جو تھا یار ہمیں تھے
بیمار محبت تھا سوا اپنے نہ کوئیاک مستحق شربت دیدار ہمیں تھے
بے اپنے بہلتی تھی طبیعت نہ کسی سےدل سوز ہمیں تھے ترے غم خوار ہمیں تھے
اک جنبش مژگاں سے غش آتا تھا ہمیں کودو نرگس بیمار کے بیمار ہمیں تھے
جب چاہتے تھے لیتے تھے آغوش میں تم کومجبور سے رہ جاتے تھے مختار ہمیں تھے
ہم سا نہ کوئی چاہنے والا تھا تمہارامرتے تھے ہمیں جان سے بیزار ہمیں تھے
بد نام محبت نے تری ہم کو کیا تھارسوائے سر کوچہ و بازار ہمیں تھے
دل ٹھوکریں کھاتا تھا نہ ہر گام کسی کااک خاک میں ملتے دم رفتار ہمیں تھے
بھڑکانے سے آتشؔ کو جلانے لگے یا توالطاف و عنایت کے سزا وار ہمیں تھے
۷۳ / ۱۰۵