کلامِ آتشردیف ے

اے جنوں ہوتے ہیں صحرا پر اتارے شہر سے

۱

اے جنوں ہوتے ہیں صحرا پر اتارے شہر سےفصل گل آئی کہ دیوانے سدھارے شہر سے

۲

خوب روئے حال پر اپنے وطن کا سن کے حالکوئی غربت میں جو آ نکلا ہمارے شہر سے

۳

جان دوں گا میں اسیر اے دوستو چپکے رہوذکر کیا اس کا کہ دیوانہ سدھارے شہر سے

۴

موسم گل میں رہا زنداں میں اور آئی نہ موتسامنے ہوتی نہیں ہے آنکھ سارے شہر سے

۵

جوش وحشت میں جو لی زنداں سے میں نے راہ دشتکود کاں مجھ کو خدا حافظ پکارے شہر سے

۶

پاؤں میں مجنوں کے تو طاقت نہیں اے کودکوموسم گل کی ہوا تم کو ابھارے شہر سے

۷

اک نظر للہ ہم کو صورت زیبا دکھاؤتشنۂ دیدار جاتے ہیں تمہارے شہر سے

۸

دشت گردی کی نہیں دیوانہ کو کچھ احتیاججامہ سے باہر جو ہے باہر ہے سارے شہر سے

۹

اونٹ سی لگتی ہے دل جنگل سے ہوتا ہے اچاٹسنگ طفلاں کرتے ہیں مجھ کو اشارے شہر سے

۱۰

لاش وحشت سے نہیں پہونچا میں صحرا تک ہنوزجانے والے گور کے پہنچے کنارے شہر سے

۱۱

موسم گل آئی نیت سیر دیوانوں کی ہومیوۂ صحرائی پر ہیں منہ پسارے شہر سے

۱۲

اب تو آزردہ ہے تو لیکن ملے گا ہاتھ پھرجس گھڑی آتشؔ نکل جاوے گا پیارے شہر سے

۷۹ / ۱۰۵