کلامِ آتشردیف ے
سر کاٹ کے کر دیجئے قاتل کے حوالے
۱
سر کاٹ کے کر دیجئے قاتل کے حوالےہمت مری کہتی ہے کہ احسان بلا لے
۲
ہر قطرۂ خوں سوز دروں سے ہے اک اخگرجلاد کی تلوار میں پڑ جائیں گے چھالے
۳
نادان نہ ہو عقل عطا کی ہے خدا نےیوسف کی طرح تم کو کوئی بیچ نہ ڈالے
۴
ہستی کی اسیری سے شرر سے ہیں سوا تنگچھوٹے تو ادھر پھر کے نہیں دیکھنے والے
۵
سالک کو یہی جادے سے آواز ہے آتیپامال جو ہو راہ وہ منزل کی نکالے
۶
صیاد چمن ہی میں کرے مرغ چمن ذبحلبریز لہو سے ہی درختوں کے ہوں تھالے
۸۵ / ۱۰۵