کلامِ آتشردیف ے
پیری سے مرا نوع دگر حال ہوا ہے
۱
پیری سے مرا نوع دگر حال ہوا ہےوہ قد جو الف سا تھا سو اب دال ہوا ہے
۲
مقبول مرے قول سے قوال ہوا ہےصوفی کو غزل سن کے مری حال ہوا ہے
۳
ان ہاتھوں کی دولت سے کڑا مال ہوا ہےان پاؤں سے آوازۂ خلخال ہوا ہے
۴
المنۃ و للہ بہ صد منت ادھر سےانکار تھا جس شے کا اب اقبال ہوا ہے
۵
جب قتل کیا ہے کسی عاشق کو تو واں سےجلاد کی تلوار کو رومال ہوا ہے
۶
کس عقدے کو اس زلف کی کھولا نہیں ہم نےسلجھایا ہے الجھا ہوا جو بال ہوا ہے
۷
کس سر کو نہیں یار کی رفتار کا سودامعراج وہ سمجھا ہے جو پامال ہوا ہے
۸
بیمار رہا برسوں میں عیسیٰ نفسوں میںپوچھا نہ کسی نے کبھی کیا حال ہوا ہے
۹
اے ابر کرم تو ہی سفید اس کو کرے گابرسوں میں سیہ نامۂ اعمال ہوا ہے
۱۰
جو ناز کرے یار سزاوار ہے آتشؔخوش رو و خوش اسلوب و خوش اقبال ہوا ہے
۸۶ / ۱۰۵