کلامِ آتشردیف ے

ناز و ادا ہے تجھ سے دل آرام کے لیے

۱

ناز و ادا ہے تجھ سے دل آرام کے لیےیہ جامہ قطع ہے ترے اندام کے لیے

۲

وحشت میں کعبے کو جو گیا کوئے یار سےلتے جنوں نے جامۂ احرام کے لیے

۳

عاشق ہوں ہر طرح سے گنہ گار ہوں تراحاجت قصور کی نہیں الزام کے لیے

۴

کیا کیا جپے گی کیسا رٹے گی زباں اسےتسبیح ہم نے لی ہے ترے نام کے لیے

۵

طفلی کے گریہ کا یہ کھلا حال وقت مرگآغاز ہی میں روتے تھے انجام کے لیے

۶

اچھا نہیں مقابلہ اس چشم شوخ سےاک دن شکست فاش ہے بادام کے لیے

۷

وہ نونہال آئے الٰہی مراد پرحاصل ہو پختگی ثمر خام کے لیے

۸

ہر چند اپنا نامۂ عصیاں سیاہ ہوہوگا سفید صبح ہے ہر شام کے لیے

۹

نامرد اور مرد میں اتنا ہی فرق ہےوہ نان کے لیے مرے یہ نام کے لیے

۱۰

مثل کمند اپنی رسائی ہوئی اگراے قصر یار بوسے لب بام کے لیے

۱۱

کیا چشم مست یار سے تشبیہ دیجئےکیفیت نگاہ نہیں جام کے لیے

۱۲

رکھوا کے زلفیں یار نے لاکھوں ہی مرغ دلپیدا کئے ہیں کشمکش دام کے لیے

۱۳

دل میں سوائے یار جگہ ہو نہ غیر کیخلوت سرائے خاص نہیں عام کے لیے

۱۴

جاتا ہے بہر غسل جو اے خوش دماغ توجلتا ہے عود گرمیٔ حمام کے لیے

۱۵

آتشؔ جو چاہے پائے توکل کے محکمےجو صبح کو ملے نہ رہے شام کے لیے

۸۷ / ۱۰۵