کلامِ آتشردیف ے
کیا کیا نہ رنگ تیرے طلب گار لا چکے
کیا کیا نہ رنگ تیرے طلب گار لا چکےمستوں کو جوش صوفیوں کو حال آ چکے
ہستی کو مثل نقش کف پا مٹا چکےعاشق نقاب شاہد مقصود اٹھا چکے
کعبے سے دیر دیر سے کعبے کو جا چکےکیا کیا نہ اس دوراہے میں ہم پھیر کھا چکے
گستاخ ہاتھ طوق کمر یار کے ہوئےحد ادب سے پاؤں کو آگے بڑھا چکے
کنعاں سے شہر مصر میں یوسف کو لے گئےبازار میں بھی حسن کو آخر دکھا چکے
پہنچے تڑپ تڑپ کے بھی جلاد تک نہ ہمطاقت سے ہاتھ پاؤں زیادہ ہلا چکے
ہوتی ہے تن میں روح پیام اجل سے شاددن وعدۂ وصال کے نزدیک آ چکے
پیمانہ میری عمر کا لبریز ہو کہیںساقی مجھے بھی اب تو پیالہ پلا چکے
دیوانہ جانتے ہیں ترا ہوشیار انہیںجامے کو جسم کے بھی جو پرزے اڑا چکے
بے وجہ ہر دم آئنہ پیش نظر نہیںسمجھے ہم آپ آنکھوں میں اپنی سما چکے
اس دل ربا سے وصل ہوا دے کے جان کویوسف کو مول لے چکے قیمت چکا چکے
اٹھا نقاب چہرۂ زیبائے یار سےدیوار درمیاں جو تھی ہم اس کو ڈھا چکے
زیر زمیں بھی تڑپیں گے اے آسمان حسنبیتاب تیرے گور میں بھی چین پا چکے
آرائش جمال بلا کا نزول ہےاندھیر کر دیا جو وہ مسی لگا چکے
دو ابرو اور دو لب جاں بخش یار کےزندوں کو قتل کر چکے مردے جلا چکے
مجبور کر دیا ہے محبت نے یار کیباہر ہم اختیار سے ہیں اپنے جا چکے
صدموں نے عشق حسن کے دم کر دیا فناآتشؔ سزا گناہ محبت کی پا چکے
۹۲ / ۱۰۵