کلامِ آتشردیف ے
کوچۂ دلبر میں میں بلبل چمن میں مست ہے
۱
کوچۂ دلبر میں میں بلبل چمن میں مست ہےہر کوئی یاں اپنے اپنے پیرہن میں مست ہے
۲
نشۂ دولت سے منعم پیرہن میں مست ہےمرد مفلس حالت رنج و محن میں مست ہے
۳
دور گردوں ہے خداوندا کہ یہ دور شرابدیکھتا ہوں جس کو میں اس انجمن میں مست ہے
۴
آج تک دیکھا نہیں ان آنکھوں نے روئے خمارکون مجھ سا گنبد چرخ کہن میں مست ہے
۵
گردش چشم غزالاں گردش ساغر ہے یاںخوش رہیں اہل وطن دیوانہ پن میں مست ہے
۶
ہے جو حیران صفائے رخ حلب میں آئینہبوئے زلف یار سے آہو ختن میں مست ہے
۷
غافل و ہشیار ہیں اس چشم مے گوں کے خرابزندہ زیر پیرہن مردہ کفن میں مست ہے
۸
ایک ساغر دو جہاں کے غم کو کرنا ہے غلطاے خوشا طالع جو شیخ و برہمن میں مست ہے
۹
وحشت مجنوں و آتشؔ میں ہے بس اتنا ہی فرقکوئی بن میں مست ہے کوئی وطن میں مست ہے
۹۳ / ۱۰۵