کلامِ آتشردیف ے

کوئی اچھا نہیں ہوتا ہے بری چالوں سے

۱

کوئی اچھا نہیں ہوتا ہے بری چالوں سےلب بام آ کے کھڑے ہو نہ کھلے بالوں سے

۲

روز و شب کس لیے رہتا ہوں الٰہی بیتابنہ تو گوروں سے محبت نہ مجھے کالوں سے

۳

جوش وحشت میں جو جنگل کی طرف جا نکلاتپ چڑھی شیر نیستاں کو مرے نالوں سے

۴

کوئی کچھ عشق کا کرتا ہے بیاں کوئی کچھتنگ آیا ہوں میں اس قضیہ کے دلالوں سے

۵

بیشتر صبح شب وصل سے ہم گزریں گےزور ادبار چلے گا نہ خوش اقبالوں سے

۶

مست ہاتھی ہے تری چشم سیہ مست اے یارصف مژگاں اسے گھیرے ہوے ہے بھالوں سے

۷

روئے خوباں سے ملے گا ہمیں بوسہ کہ نہیںحال ان شکلوں کا کچھ پوچھیے رمالوں سے

۸

عارضی حسن سے نفرت یہ ہوئی ہے دل کورتبہ زلفوں کو نہیں مکڑیوں کے جالوں سے

۹

خط شب گوں نے نکل کر عبث اندھیر کیاکافرستاں تو وہ رخ آگے ہی تھا خالوں سے

۱۰

دو جہاں حشر کے دن ہوویں گے باہم موجودمتفق ہوں گے اِدھر والے اُدھر والوں سے

۱۱

دل حسینوں کے تصور سے بنایا خالیآئینہ خانوں میں کثرت رہی تمثالوں سے

۱۲

کچھ تو ہلکا کریں خار رہ صحرائے جنوںبوجھ لنگر کا ہوئے ہیں کف پا چھالوں سے

۱۳

ان کے بوسوں کی تمنا ہے لبوں کو آتشؔآئنہ کسب صفا کرتے ہیں جن گالوں سے

۹۴ / ۱۰۵