کلامِ آتشردیف ے
کام ہمت سے جواں مرد اگر لیتا ہے
۱
کام ہمت سے جواں مرد اگر لیتا ہےسانپ کو مار کے گنجینۂ زر لیتا ہے
۲
نا گوارا کو جو کرتا ہے گوارا انساںزہر پی کر مزۂ شیر و شکر لیتا ہے
۳
ہالے میں ماہ کا ہوتا ہے چکوروں کو یقیںکبھی انگڑائی جو وہ رشک قمر لیتا ہے
۴
وہ زبوں بخت شجر ہوں میں کہ دہقاں میراپیچھے بوتا ہے مجھے پہلے تبر لیتا ہے
۵
منزل فقر و فنا جائے ادب ہے غافلبادشہ تخت سے یاں اپنے اتر لیتا ہے
۶
گنج پنہاں ہیں تصرف میں بنی آدم کےکان سے لعل یہ دریا سے گہر لیتا ہے
۷
نظر آ جاتا ہے اے گل جسے رخسار تراپھولوں سے دامن نظارہ وہ بھر لیتا ہے
۸
عقل کر دیتی ہے انساں کی جہالت زائلموت سے جان چھپانے کو سپر لیتا ہے
۹
یاد رکھتا ہے عدم میں کوئی ساغر کش اسےہچکیاں شیشۂ مے شام و سحر لیتا ہے
۱۰
غیرت نالہ و فریاد نہ کھو اے آتشؔآشنا کوئی نہیں کون خبر لیتا ہے
۹۵ / ۱۰۵