کلامِ آتشردیف ے

ہوائے دور مے خوش گوار راہ میں ہے

۱

ہوائے دور مے خوش گوار راہ میں ہےخزاں چمن سے ہے جاتی بہار راہ میں ہے

۲

گدا نواز کوئی شہسوار راہ میں ہےبلند آج نہایت غبار راہ میں ہے

۳

عدم کے کوچ کی لازم ہے فکر ہستی میںنہ کوئی شہر نہ کوئی دیار راہ میں ہے

۴

نہ بدرقہ ہے نہ کوئی رفیق ساتھ اپنےفقط عنایت پروردگار راہ میں ہے

۵

سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرےہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہے

۶

مقام تک بھی ہم اپنے پہنچ ہی جائیں گےخدا تو دوست ہے دشمن ہزار راہ میں ہے

۷

تھکیں جو پاؤں تو چل سر کے بل نہ ٹھہر آتشؔگل مراد ہے منزل میں خار راہ میں ہے

۹۶ / ۱۰۵