کلامِ آتشردیف ے

عاشق ہوں میں نفرت ہے مرے رنگ کو رو سے

۱

عاشق ہوں میں نفرت ہے مرے رنگ کو رو سےپیوند نہیں چاک گریباں کو رفو سے

۲

دامن مرے قاتل کا نہ رنگیں ہو لہو سےہرچند کہ نزدیک ہو رگ ہائے گلو سے

۳

گلزار جہاں پر نہ پڑی آنکھ ہماریکوتاہ تھی عمر اپنی حباب لب جو سے

۴

کرتا ہے وہ سفاک خط شوق کے پرزےمہندی ملی جاتی ہے کبوتر کے لہو سے

۵

عاشق ہوں مگر کرتے ہیں معشوق خوشامدنازک ہے طبیعت مری بیمار کی خو سے

۹۷ / ۱۰۵