کلامِ آتشمثنویات، مراثی و دیگر

زندے وہی ہیں جو کہ ہیں تم پر مرے ہوے

۱

زندے وہی ہیں جو کہ ہیں تم پر مرے ہوےباقی جو ہیں سو قبر میں مردے بھرے ہوئے

۲

مست الست قلزم ہستی میں آئے ہیںمثل حباب اپنا پیالہ بھرے ہوئے

۳

اللہ رے صفائے تن نازنین یارموتی ہیں کوٹ کوٹ کے گویا بھرے ہوئے

۴

دو دن سے پاؤں جو نہیں دبوائے یار نےبیٹھے ہیں ہاتھ ہاتھ کے اوپر دھرے ہوئے

۵

ان ابروؤں کے حلقہ میں وہ انکھڑیاں نہیںدو طاق پر ہیں دو گل نرگس دھرے ہوئے

۶

بعد فنا بھی آئے گی مجھ مست کو نہ نیندبے خشت خم لحد میں سرہانے دھرے ہوئے

۷

نکلیں جو اشک بے اثر آنکھوں سے کیا عجبپیدا ہوئے ہیں طفل ہزاروں مرے ہوئے

۸

لکھے گئے بیاضوں میں اشعار انتخابرائج رہے وہی کہ جو سکے کھرے ہوئے

۹

الٹا صفوں کو تیغ نے ابروئے یار کیتیر مژہ سے درہم و برہم پرے ہوئے

۱۰

آتشؔ خدا نے چاہا تو دریائے عشق میںکودے جو اب کی ہم تو ورے سے پرے ہوئے

۱۰۳ / ۱۰۵