کلامِ آتشردیف ی

دل لگی اپنی ترے ذکر سے کس رات نہ تھی

۱

دل لگی اپنی ترے ذکر سے کس رات نہ تھیصبح تک شام سے یاہو کے سوا بات نہ تھی

۲

التجا تجھ سے کب اے قبلۂ حاجات نہ تھیتیری درگاہ میں کس روز مناجات نہ تھی

۳

اب ملاقات ہوئی ہے تو ملاقات رہےنہ ملاقات تھی جب تک کہ ملاقات نہ تھی

۴

غنچۂ گل کو نہ ہنسنا تھا تری صورت سےچھوٹے سے منہ کی سزاوار بڑی بات نہ تھی

۵

ابتدا سے تجھے موجود سمجھتا تھا میںمرے تیرے کبھی پردے کی ملاقات نہ تھی

۶

اے نسیم سحری بہر اسیران قفستحفہ تر نکہت گل سے کوئی سوغات نہ تھی

۷

ان دنوں عشق رلاتا تھا ہمیں صورت ابرکون سی فصل تھی وہ جس میں کہ برسات نہ تھی

۸

کیا کہوں اس کے جو مجھ پر کرم پنہاں تھےظاہری یار سے ہر چند ملاقات نہ تھی

۹

اپنے باندھے ہوئے گاتی تجھے دیکھا پھڑکادل ربا شے تھی مری جان تری گات نہ تھی

۱۰

اک میں مل گئے اے شاہ سوار اہل نیازناز معشوق تھا تو سن کی ترے لات نہ تھی

۱۱

لب کے بوسہ کا ہے انکار تعجب اے یارپھیرے سائل سے جو منہ کو وہ تری ذات نہ تھی

۱۲

کمر یار تھی ازبسکہ نہایت نازکسوجھتی بندش مضموں کی کوئی گھات نہ تھی

۱۳

ان دنوں ہوتا تھا تو گھر میں ہمارے شب باشروز روشن سے کم اے مہر لقا رات نہ تھی

۱۴

بے شعوروں نے نہ سمجھا تو نہ سمجھا آتشؔنکتہ سنجوں کو لطیفہ تھی تری بات نہ تھی

۶۳ / ۱۰۵