کلامِ آتشردیف ی

بازار دہر میں تری منزل کہاں نہ تھی

۱

بازار دہر میں تری منزل کہاں نہ تھییوسف نہ جس میں ہو کوئی ایسی دکاں نہ تھی

۲

زردی نے میرے رنگ کی مجھ کو رلا دیاہنسوائے جو کسی کو یہ وہ زعفراں نہ تھی

۳

ظاہر سے خوب رویوں کا باطن خلاف تھاشیریں لبوں کی طرح سے ان کی زباں نہ تھی

۴

منزل ہی دور ہے جو یہ پہنچی نہیں ہنوزدم لینے والی راہ میں عمر رواں نہ تھی

۵

دکھلائی سیر آنکھوں کو بام مراد کیایسی کوئی کمند کوئی نردباں نہ تھی

۶

قوس قزح سے ہم نے بھی تشبیہ دی اسےچلہ نہ ہونے سے جو وہ ابرو کماں نہ تھی

۷

آگاہ جذب عشق زلیخا سے تھا نہ حسنیوسف کو چاہ میں خبر کارواں نہ تھی

۸

یاد آ گئی جو سلک گہر تیرے گوش کیسوہان روح تھی مجھے شب کہکشاں نہ تھی

۹

رہ جانا پیچھے جسم کا جاں سے عجب نہیںکس کارواں کی گرد پس کارواں نہ تھی

۱۰

نا فہمی کی دلیل ہے یہ سجدہ سے آیاابلیس کو حقیقت آدم عیاں نہ تھی

۱۱

عاشق کے سر کے ساتھ ہے سودائے کوئے یارمومن نہ تھا وہ جس کو ہوائے جناں نہ تھی

۱۲

بانگ جرس سے آگے ہر اک کا قدم رہاگرد اپنے کارواں کے پس کارواں نہ تھی

۱۳

افسوس کیا جوانیٔ رفتہ کا کیجیےوہ کون سی بہار تھی جس کو خزاں نہ تھی

۱۴

نالوں سے ایک دن نہ کئے گرم گوش یارآتشؔ مگر تمہارے دہن میں زباں نہ تھی

۶۴ / ۱۰۵