کلامِ آتشردیف ن

مرے دل کو شوق فغاں نہیں مرے لب تک آتی دعا نہیں

۱

مرے دل کو شوق فغاں نہیں مرے لب تک آتی دعا نہیںوہ دہن ہوں جس میں زباں نہیں وہ جرس ہوں جس میں صدا نہیں

۲

نہ تجھے دماغ نگاہ ہے نہ کسی کو تاب جمال ہےانہیں کس طرح سے دکھاؤں میں وہ جو کہتے ہیں کہ خدا نہیں

۳

کسے نیند آتی ہے اے صنم ترے طاق ابرو کی یاد میںکبھی آشنائے تہ بغل سر مرغ قبلہ نما نہیں

۴

عجب اس کا کیا نہ سماؤں میں جو خیال دشمن و دوست ہےوہ مقام ہوں کہ گزر نہیں وہ مکان ہوں کہ پتا نہیں

۵

یہ خلاف ہو گیا آسماں یہ ہوا زمانہ کی پھر گئیکہیں گل کھلے بھی تو بوند سے کہیں حسن ہے تو وفا نہیں

۶

مرض جدائی یار نے یہ بگاڑ دی ہے ہماری خوکہ موافق اپنے مزاج کے نظر آتی کوئی دوا نہیں

۷

مجھے زعفران سے زرد تر غم ہجر یار نے کر دیانہیں ایسا کوئی زمانہ میں مرے حال پر جو ہنسا نہیں

۸

مرے آگے اس کو فروغ ہو یہ مجال کیا ہے رقیب کییہ ہجوم جلوۂ یار ہے کہ چراغ خانہ کو جا نہیں

۹

چلیں گو کہ سیکڑوں آندھیاں جلیں گرچہ لاکھ گھر اے فلکبھڑک اٹھے آتشؔ طور پھر کوئی اس طرح کی دوا نہیں

۶۲ / ۱۰۵