کلامِ آتشردیف ن
مرے دل کو شوق فغاں نہیں مرے لب تک آتی دعا نہیں
مرے دل کو شوق فغاں نہیں مرے لب تک آتی دعا نہیںوہ دہن ہوں جس میں زباں نہیں وہ جرس ہوں جس میں صدا نہیں
نہ تجھے دماغ نگاہ ہے نہ کسی کو تاب جمال ہےانہیں کس طرح سے دکھاؤں میں وہ جو کہتے ہیں کہ خدا نہیں
کسے نیند آتی ہے اے صنم ترے طاق ابرو کی یاد میںکبھی آشنائے تہ بغل سر مرغ قبلہ نما نہیں
عجب اس کا کیا نہ سماؤں میں جو خیال دشمن و دوست ہےوہ مقام ہوں کہ گزر نہیں وہ مکان ہوں کہ پتا نہیں
یہ خلاف ہو گیا آسماں یہ ہوا زمانہ کی پھر گئیکہیں گل کھلے بھی تو بوند سے کہیں حسن ہے تو وفا نہیں
مرض جدائی یار نے یہ بگاڑ دی ہے ہماری خوکہ موافق اپنے مزاج کے نظر آتی کوئی دوا نہیں
مجھے زعفران سے زرد تر غم ہجر یار نے کر دیانہیں ایسا کوئی زمانہ میں مرے حال پر جو ہنسا نہیں
مرے آگے اس کو فروغ ہو یہ مجال کیا ہے رقیب کییہ ہجوم جلوۂ یار ہے کہ چراغ خانہ کو جا نہیں
چلیں گو کہ سیکڑوں آندھیاں جلیں گرچہ لاکھ گھر اے فلکبھڑک اٹھے آتشؔ طور پھر کوئی اس طرح کی دوا نہیں
۶۲ / ۱۰۵