کلامِ آتشردیف ی
صورت سے اس کی بہتر صورت نہیں ہے کوئی
صورت سے اس کی بہتر صورت نہیں ہے کوئیدیدار یار سی بھی دولت نہیں ہے کوئی
آنکھوں کو کھول اگر تو دیدار کا ہے بھوکاچودہ طبق سے باہر نعمت نہیں ہے کوئی
ثابت ترے دہن کو کیا منطقی کریں گےایسی دلیل ایسی حجت نہیں ہے کوئی
یہ کیا سمجھ کے کڑوے ہوتے ہیں آپ ہم سےپی جائے گا کسی کو شربت نہیں ہے کوئی
میں نے کہا کبھی تو تشریف لاؤ بولےمعذور رکھیے وقت فرصت نہیں ہے کوئی
ہم کیا کہیں کسی سے کیا ہے طریق اپنامذہب نہیں ہے کوئی ملت نہیں ہے کوئی
دل لے کے جان کے بھی سائل جو ہو تو حاضرحاضر جو کچھ ہے اس میں حجت نہیں ہے کوئی
ہم شاعروں کا حلقہ حلقہ ہے عارفوں کانا آشنائے معنی صورت نہیں ہے کوئی
دیوانوں سے ہے اپنے یہ قول اس پری کاخاکی و آتشی سے نسبت نہیں ہے کوئی
ہژدہ ہزار عالم دم بھر رہا ہے تیراتجھ کو نہ چاہے ایسی خلقت نہیں ہے کوئی
نازاں نہ حسن پر ہو مہماں ہے چار دن کابے اعتبار ایسی دولت نہیں ہے کوئی
جاں سے عزیز دل کو رکھتا ہوں آدمی ہوںکیوں کر کہوں میں مجھ کو حسرت نہیں ہے کوئی
یوں بد کہا کرو تم یوں مال کچھ نہ سمجھوہم سا بھی خیر خواہ دولت نہیں ہے کوئی
میں پانچ وقت سجدہ کرتا ہوں اس صنم کومجھ کو بھی ایسی ویسی خدمت نہیں ہے کوئی
ما و شما کہہ و مہ کرتا ہے ذکر تیرااس داستاں سے خالی صحبت نہیں ہے کوئی
شہر بتاں ہے آتشؔ اللہ کو کرو یادکس کو پکارتے ہو حضرت نہیں ہے کوئی
۶۵ / ۱۰۵