کلامِ آتشردیف ی
شب فرقت میں یار جانی کی
شب فرقت میں یار جانی کیدرد پہلو نے مہربانی کی
منہ دکھاؤ بہت رہی تکرارارنی اور لن ترانی کی
جس کو کہتے ہیں چودھویں کا چاندتیری تصویر ہے جوانی کی
کمر یار ہو گئی غائبسن کے دھوم اپنی ناتوانی کی
صورت حال پر ہمارے مہرداغ نے زخم نے نشانی کی
سیر نعمت سے دو جہان کی کیادے کے شبنم کو بوند پانی کی
ہو گیا عشق حسن سے ناگاہپوچھتے کیا ہو ناگہانی کی
دل برشتہ ہوا جو مثل کبابمیں نے ترکوں کی مہمانی کی
لب جاں بخش کے قریب وہ خطشرح ہے متن زندگانی کی
گوش زد ہوتے ہی ہوئی دشمننیند تیری مری کہانی کی
کھینچتے اس غزال کی صورتچوکڑی بھولتی ہے مانیؔ کی
مجھ کو بٹھلا کے یار سوتا ہےعاشقی کی کہ پاسبانی کی
رہ گیا شوق منزل مقصودپائے خفتہ نے سرگرانی کی
مثل شبنم ہوں صاف دل قانعمجھ کو دریا ہے بوند پانی کی
برق چمکی تو سرفراز کیاابر آیا تو مہربانی کی
راحت مرگ کو نہ پوچھ آتشؔنہ رہی قدر زندگانی کی
۶۶ / ۱۰۵