کلامِ آتشردیف ی

پیمبر میں نہیں عاشق ہوں جانی

۱

پیمبر میں نہیں عاشق ہوں جانیرہے موسی ہی سے یہ لن ترانی

۲

سلیماں ہم ہیں اے محبوب جانیسمجھتے ہیں تجھے بلقیس ثانی

۳

کھلا سودے میں ان زلفوں کے مر کرپریشاں خواب تھی یہ زندگانی

۴

یہ کیوں آتا ہے ان سے قد کشی کوگڑی جاتی ہے سرو بوستانی

۵

وہی دے گا کباب نرگسی بھیجو دیتا ہے شراب ارغوانی

۶

رنگا ہے عشق نے کس درد سر سےہمارا جامۂ تن زعفرانی

۷

مسافر کی طرح رہ خانہ بر دوشنہیں جائے اقامت دار فانی

۸

ترے کوچہ کے مشتاقوں کے آگےجہنم ہے بہشت آسمانی

۹

وہ میکش ہوں دیا ہے قابلہ نےجسے غسل شراب ارغوانی

۱۰

یقیں ہے دیدۂ باریک بیں کوکرے عینک طلب یہ ناتوانی

۱۱

وہ خط ہے یادگار حسن رفتہوہ سبزہ ہے گلستاں کی نشانی

۱۲

نکلتی منہ سے قاصد کے نہیں باتمگر لایا ہے پیغام زبانی

۱۳

یہ مشت خاک ہو مقبول درگاہصبا کی چاہتا ہوں مہربانی

۱۴

لئے ہیں بوسۂ رخسارۂ صافپیا ہے ہم نے آئینہ کا پانی

۱۵

سفیدی مو کی ہو کافور ہر چندکوئی مٹتا ہے یہ داغ جوانی

۱۶

نہ خوش ہو فربہی تن سے غافلسبک کرتی ہے مردے کو گرانی

۱۷

موے جو پیشتر مرنے سے وہ لوگکفن سمجھے قبائے زندگانی

۱۸

جلاتی ہے دل آتشؔ طور کی طرحکسی پردہ نشیں کی لن ترانی

۶۷ / ۱۰۵