کلامِ آتشردیف م
آخر کار چلے تیر کی رفتار قدم
آخر کار چلے تیر کی رفتار قدمغیر منزل نہ پڑے راہ میں زنہار قدم
اٹھ گئے وصل کی شب پیشتر از یار قدمآگے ہم عمر رواں سے بھی چلے چار قدم
کوئے مقصود سے یوں رکھتی ہے غفلت مجھے دورجیسے سو جانے سے ہو جاتے ہیں بیکار قدم
اہل عالم میں ہوں میں زندوں میں مردوں کی طرحبڑھ چلیں لاکھ مگر ساتھ ہیں دو چار قدم
ایک مدت سے رہ کعبہ میں آوارہ ہیںکیا خدا کا مجھے دکھلائیں گے دیدار قدم
جوش وحشت میں بھی میں چڑھ کے نہ اس پر دوڑالے گئے حسرت خار سر دیوار قدم
صورت برگ خزاں جھڑتے ہیں ہر گام گناہجب اٹھاتے ہیں تری راہ میں زوار قدم
اے جنوں کوہ و بیابان بھی دکھلا مجھ کورہیں پستی و بلندی سے خبردار قدم
کوچہ گردی یہ شب و روز کی بے وجہ نہیںایڑیاں رگڑیں گے کس کے پس دیوار قدم
جادۂ راہ محبت کو خط مسطر جانسر کے بل مثل قدم چل جو ہوں بیکار قدم
خاک بھی ہوں تو ہوں خاک در اس کا آتشؔجس کے تھے دوش پیمبر کے سزا وار قدم
۴۸ / ۱۰۵