کلامِ آتشردیف ٹ

دولت حسن کی بھی ہے کیا لوٹ

۱

دولت حسن کی بھی ہے کیا لوٹآنکھوں کو پڑ گئی ہے لوٹا لوٹ

۲

چل رہی ہے دلا ہوائے بہارلالہ پھولا ہے داغ سودا لوٹ

۳

سامنے تیرے جو پڑے اے ترکاس میں کعبہ ہو یا کلیسا لوٹ

۴

چار دن ہے بہار اے بلبلزر گل کا ہزار توڑا لوٹ

۵

صف مژگاں سے کہہ رہی ہے وہ چشمدل ملیں جتنے بے تحاشا لوٹ

۶

صرف اللہ مال دنیا کرمرد ہے کچھ تو بہر عقبیٰ لوٹ

۷

صاف دل ہو تو جلوہ گر ہو یارآئنہ ہو تو ہو تماشا لوٹ

۸

نعمت خوان حسن جو مل جائےیہ سمجھ لے ہے من و سلویٰ لوٹ

۹

گوہر آبلہ ہوئے تو چلےلیں گے دیوانو خار صحرا لوٹ

۱۰

جانتے ہیں کہ فوج جنگی سےنہیں سردار پھیر لیتا لوٹ

۱۱

کام مردوں کا ہے یہ اے آتشؔرکھتی ہے جان کا بھی کھٹکا لوٹ

۴۲ / ۱۰۵