کلامِ آتشردیف م
آئنہ خانہ کریں گے دل ناکام کو ہم
آئنہ خانہ کریں گے دل ناکام کو ہمپھیریں گے اپنی طرف روئے دل آرام کو ہم
شام سے صبح تلک دور شراب آخر ہےروتے ہیں دیکھ کے خنداں دہن جام کو ہم
یاد رکھنے کی جگہ ہے یہ طلسم حیرتصبح کو دیکھتے ہی بھول گئے شام کو ہم
آنکھ وہ فتنۂ دوراں کسے دکھلاتا ہےشعبدہ جانتے ہیں گردش ایام کو ہم
فتنہ انگیزی بھی چھپتی ہے کہیں پردے میںسنتے ہیں گبر و مسلماں سے ترے نام کو ہم
خون قاصد تو وہ سفاک سمجھتا ہے حلالکسی غماز سے بھجوائیں گے پیغام کو ہم
پاؤں پکڑے ہیں زمیں نے یہ ترے کوچہ کیرہ صد سالہ سمجھتے ہیں اب اک گام کو ہم
دیدۂ یار کہیں کیا اسے کیف مے میںبھون کر روز گزک کرتے ہیں بادام کو ہم
بیزۂ خط سے ہوئی اس کی کدورت دہ چنداب صفائی کے لیے ڈھونڈیں گے حجام کو ہم
یہی تحصیل محبت کا ہے عالم تا حالپختہ کرتے ہیں ہنوز آرزوئے خام کو ہم
لطف حاصل ہو جو زلفوں میں گرفتاری کامول لیں دل کی اسیری کے لیے دام کو ہم
کوچۂ یار میں اپنا جو گزر ہوتا ہےنگراں رہتے ہیں حسرت سے در و بام کو ہم
حسن سے عشق کی خاطر ہے خدا نے بھیجاکرتے ہیں آتشؔ اسے آئے ہیں جس کام کو ہم
۴۹ / ۱۰۵