کلامِ آتشردیف م
وحشی تھے بوئے گل کی طرح اس جہاں میں ہم
وحشی تھے بوئے گل کی طرح اس جہاں میں ہمنکلے تو پھر کے آئے نہ اپنے مکاں میں ہم
ساکن ہیں جوش اشک سے آب رواں میں ہمرہتے ہیں مثل مردم آبی جہاں میں ہم
شیدائے روئے گل نہ تو شیدائے قد سروصیاد کے شکار ہیں اس بوستاں میں ہم
نکلی لبوں سے آہ کہ گردوں نشانہ تھاگویا کہ تیر جوڑے ہوئے تھے کماں میں ہم
آلودۂ گناہ ہے اپنا ریاض بھیشب کاٹتے ہیں جاگ کے مغ کی دکاں میں ہم
ہمت پس از فنا سبب ذکر خیر ہےمردوں کا نام سنتے ہیں ہر داستاں میں ہم
ساقی ہے یار ماہ لقا ہے شراب ہےاب بادشاہ وقت ہیں اپنے مکاں میں ہم
نیرنگ روزگار سے ایمن ہیں شکل سرورکھتے ہیں ایک حال بہار و خزاں میں ہم
دنیا و آخرت میں طلب گار ہیں ترےحاصل تجھے سمجھتے ہیں دونوں جہاں میں ہم
پیدا ہوا ہے اپنے لیے بوریائے فقریہ نیستاں ہے شیر ہیں اس نیستاں میں ہم
خواہاں کوئی نہیں تو کچھ اس کا عجب نہیںجنس گراں بہا ہیں فلک کی دکاں میں ہم
لکھا ہے کس کے خنجر مژگاں کا اس نے وصفاک زخم دیکھتے ہیں قلم کی زباں میں ہم
کیا حال ہے کسی نے نہ پوچھا ہزار حیفنالاں رہے جرس کی طرح کارواں میں ہم
آیا ہے یار فاتحہ پڑھنے کو قبر پربیدار بخت خفتہ ہے خواب گراں میں ہم
شاگرد طرز خندہ زنی میں ہے گل ترااستاد عندلیب ہیں سوز و فغاں میں ہم
باغ جہاں کو یاد کریں گے عدم میں کیاکنج قفس سے تنگ رہے آشیاں میں ہم
اللہ رے بے قرارئ دل ہجر یار میںگاہے زمیں میں تھے تو گہے آسماں میں ہم
دروازہ بند رکھتے ہیں مثل حباب بحرقفل درون خانہ ہیں اپنے مکاں میں ہم
آتشؔ سخن کی قدر زمانے سے اٹھ گئیمقدور ہو تو قفل لگا دیں زباں میں ہم
۵۰ / ۱۰۵