کلامِ آتشردیف ن

دل کی کدورتیں اگر انساں سے دور ہوں

۱

دل کی کدورتیں اگر انساں سے دور ہوںسارے نفاق گبر و مسلماں سے دور ہوں

۲

نزدیک آ چکی ہے سواری بہار کیبرگ خزاں رسیدہ گلستاں سے دور ہوں

۳

دل اس قدر گداز ہے برسوں ہی غم رہےآنسو جو اپنے دیدۂ گریاں سے دور ہوں

۴

مٹتا نہیں نوشتۂ قسمت کسی طرحجوہر کبھی نہ خنجر براں سے دور ہوں

۵

فصل بہار آئی ہے کپڑوں کو پھاڑیےدل کے بخار دست و گریباں سے دور ہوں

۶

چھڑکاؤ کا ارادہ ہے چشم پر آب کاگرد و غبار کوچۂ جاناں سے دور ہوں

۷

یہ تنگ کر رہا ہے تو الجھا رہے ہیں وہدامن کے پاٹ پہلے گریباں سے دور ہوں

۸

وحش و طیور کو مری آہیں کریں ہلاکآب و گیاہ کوہ و بیاباں سے دور ہوں

۹

ممکن نہیں نجات اسیران عشق کویہ قیدی وہ نہیں کہ جو زنداں سے دور ہوں

۱۰

مدت کے بعد آئے ہیں صحرا میں اے جنوںدو آبلے تو خار مغیلاں سے دور ہوں

۱۱

گردش سے چشم یار کے آتشؔ عجب نہیںجو جو عمل کہ گردش دوراں سے دور ہوں

۵۶ / ۱۰۵