کلامِ آتشردیف ن

بلبل کو خار خار دبستاں ہے ان دنوں

۱

بلبل کو خار خار دبستاں ہے ان دنوںہر طفل کی بغل میں گلستاں ہے ان دنوں

۲

زنار عشق بت میں رگ جاں ہے ان دنوںناقوس برہمن دل نالاں ہے ان دنوں

۳

آباد میرا خانۂ ویراں ہے ان دنوںسیلاب مجھ غریب کا مہماں ہے ان دنوں

۴

دامن ہے اپنے ہاتھ میں اک رشک ماہ کاپیش نظر ہلال گریباں ہے ان دنوں

۵

باغ جہاں میں جو ہے گرفتار ہے تراآزاد ایک سرو گلستاں ہے ان دنوں

۶

کہتے ہیں ہم زمین میں مجنوں کی اب غزلہر بیت اپنی خانۂ زنداں ہے ان دنوں

۷

کافر ہو اے صنم جو خریدے نہ تو اسےمہندی کے مول خون مسلماں ہے ان دنوں

۸

ہنگامہ حسن و عشق کا ہے گرم آج کل بہتدیوانہ پری ہے جو انساں ہے ان دنوں

۹

مستی کا ان لبوں کے فسانہ کہاں نہیںمجلس نہیں وہ جو نہیں حیراں ہے ان دنوں

۱۰

صدقے چکور ہوتے ہیں رخسار یار کےوہ ماہ چار دہ مہ تاباں ہے ان دنوں

۱۱

آتا ہے سیر باغ کو وہ گوہر مرادپھیلائے گل کے پاس جو داماں ہے ان دنوں

۱۲

قد سرو چہرہ گل ہے تو سنبل ہیں موئے یارگھر خانہ باغ ہے جو وہ مہماں ہے ان دنوں

۱۳

جوہر شناس جمع ہیں آتشؔ ہے معرکہشمشیر ہے وہی کہ جو عریاں ہے ان دنوں

۵۷ / ۱۰۵