کلامِ آتشردیف ن

برگشتہ طالعی کا تماشا دکھاؤں میں

۱

برگشتہ طالعی کا تماشا دکھاؤں میںگھر کو لگے جو آگ تو پانی بجھاؤں میں

۲

جنس گراں بہا کا خریدار کون ہےیکتا نہیں الٰہی جو چوری ہی جاؤں میں

۳

لالہ رخوں کے حسن کا بھوکا ہوں اس قدردل ہو نہ سیر لاکھ اگر داغ کھاؤں میں

۴

آنکھیں مری کرے جو منور جمال یارگھی کے چراغ طور کے اوپر جلاؤں میں

۵

مردے کی طرح سوتے ہیں کیسے مرے نصیبٹھوکر سے پائے یار کے ان کو جگاؤں میں

۶

بوسہ ملے کماں کا جو ابروئے یار کیمحراب بیت کعبہ میں چلا چڑھاؤں میں

۷

جی چاہتا ہے شوق شہادت میں قبل مرگبنوا کے قبر لالہ کو اس پر لگاؤں میں

۸

گھر میں جو مجھ فقیر کے وہ شاہ حسن آئےمژگاں کے بوریے جو کھڑے ہیں بچھاؤں میں

۹

کانٹا سکھا کے ہجر نے ہر چند کر دیاوہ گل بدن ملے تو نہ پھولا سماؤں میں

۱۰

تم تو غریب خانہ میں آئے نہ ایک روزفرمائیے تو شب کو کسی وقت آؤں میں

۱۱

باریک بیں ہوں شاعر نازک خیال ہوںمضموں جہاں کمر کا ملے باندھ لاؤں میں

۱۲

آتشؔ غلام ساقی کوثر ہوں چاہئےفردوس کا کھلا ہوا دروازہ پاؤں میں

۵۹ / ۱۰۵