کلامِ آتشردیف ن
تصور سے کسی کے میں نے کی ہے گفتگو برسوں
۱
تصور سے کسی کے میں نے کی ہے گفتگو برسوںرہی ہے ایک تصویر خیالی روبرو برسوں
۲
ہوا مہمان آ کر رات بھر وہ شمع رو برسوںرہا روشن مرے گھر کا چراغ آرزو برسوں
۳
برابر جان کے رکھا ہے اس کو مرتے مرتے تکہماری قبر پر رویا کرے گی آرزو برسوں
۴
چمن میں جا کے بھولے سے میں خستہ دل کراہا تھاکیا کی گل سے بلبل شکوۂ درد گلو برسوں
۵
اگر میں خاک بھی ہوں گا تو آتشؔ گرد باد آسارکھے گی مجھ کو سرگشتہ کسی کی جستجو برسوں
۶۰ / ۱۰۵