کلامِ آتشردیف ن

پسے دل اس کی چتون پر ہزاروں

۱

پسے دل اس کی چتون پر ہزاروںموے بے ساختہ پن پر ہزاروں

۲

مری ضد سے ہوا ہے مہرباں دوستمرے احساں ہیں دشمن پر ہزاروں

۳

براے شکر قاتل رونگٹوں سےزبانیں ہیں مرے تن پر ہزاروں

۴

نہ اٹکھیلی سے چل ہوتے ہیں صدمےدل شیخ و برہمن پر ہزاروں

۵

ہوا سر خم نہ زیر تیغ جلادرہے بوجھ اپنی گردن پر ہزاروں

۶

ترے کشتہ ہیں ہم آنکھیں ملیں گےہمارے سنگ مدفن پر ہزاروں

۷

نہ مل اے لعبت چین عطر گل زارگلا کاٹیں گے گلشن پر ہزاروں

۸

نہیں اک مرد کو دنیا سے مطلبمریں نامرد اس زن پر ہزاروں

۹

عجب کیا ہے اگر پروانے بے شمعجلیں آتشؔ کے مدفن پر ہزاروں

۶۱ / ۱۰۵