کلامِ آتشردیف ت

تار تار پیرہن میں بھر گئی ہے بوئے دوست

۱

تار تار پیرہن میں بھر گئی ہے بوئے دوستمثل تصویر نہالی میں ہوں ہم پہلوئے دوست

۲

چہرۂ رنگیں کوئی دیوان رنگیں ہے مگرحسن مطلع ہیں مسیں مطلع ہے صاف ابروئے دوست

۳

ہجر کی شب ہو چکی روز قیامت سے درازدوش سے نیچے نہیں اترے ابھی گیسوئے دوست

۴

دور کر دل کی کدورت محو ہو دیدار کاآئنے کو سینہ صافی نے دکھایا روئے دوست

۵

واہ رے شانے کی قسمت کس کو یہ معلوم تھاپنجۂ شل سے کھلیں گے عقدہ ہائے موئے دوست

۶

داغ دل پر خیر گزری تو غنیمت جانیےدشمن جاں ہیں جو آنکھیں دیکھتی ہیں سوئے دوست

۷

دو مریں گے زخم کاری سے تو حسرت سے ہزارچار تلواروں میں شل ہو جائے گا بازوئے دوست

۸

فرش گل بستر تھا اپنا خاک پر سوتے ہیں ابخشت زیر سر نہیں یا تکیہ تھا زانوئے دوست

۹

یاد کر کے اپنی بربادی کو رو دیتے ہیں ہمجب اڑاتی ہے ہوائے تند خاک کوئے دوست

۱۰

اس بلائے جاں سے آتشؔ دیکھیے کیوں کر بنےدل سوا شیشے سے نازک دل سے نازک خوئے دوست

۴۱ / ۱۰۵