کلامِ داغردیف الف
خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیا
۱
خاطر سے یا لحاظ سے میں مان تو گیاجھوٹی قسم سے آپ کا ایمان تو گیا
۲
دل لے کے مفت کہتے ہیں کچھ کام کا نہیںالٹی شکایتیں ہوئیں احسان تو گیا
۳
ڈرتا ہوں دیکھ کر دل بے آرزو کو میںسنسان گھر یہ کیوں نہ ہو مہمان تو گیا
۴
کیا آئے راحت آئی جو کنج مزار میںوہ ولولہ وہ شوق وہ ارمان تو گیا
۵
دیکھا ہے بتکدے میں جو اے شیخ کچھ نہ پوچھایمان کی تو یہ ہے کہ ایمان تو گیا
۶
افشائے راز عشق میں گو ذلتیں ہوئیںلیکن اسے جتا تو دیا جان تو گیا
۷
گو نامہ بر سے خوش نہ ہوا پر ہزار شکرمجھ کو وہ میرے نام سے پہچان تو گیا
۸
بزم عدو میں صورت پروانہ دل مراگو رشک سے جلا ترے قربان تو گیا
۹
ہوش و حواس و تاب و تواں داغؔ جا چکےاب ہم بھی جانے والے ہیں سامان تو گیا
۳ / ۱۷۹