کلامِ داغردیف الف

جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا

۱

جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتامگر دیکھو تو پھر کچھ آدمی سے ہو نہیں سکتا

۲

محبت میں کرے کیا کچھ کسی سے ہو نہیں سکتامرا مرنا بھی تو میری خوشی سے ہو نہیں سکتا

۳

الگ کرنا رقیبوں کا الٰہی تجھ کو آساں ہےمجھے مشکل کہ میری بیکسی سے ہو نہیں سکتا

۴

کیا ہے وعدۂ فردا انہوں نے دیکھیے کیا ہویہاں صبر و تحمل آج ہی سے ہو نہیں سکتا

۵

یہ مشتاق شہادت کس جگہ جائیں کسے ڈھونڈیںکہ تیرا کام قاتل جب تجھی سے ہو نہیں سکتا

۶

لگا کر تیغ قصہ پاک کیجئے دادخواہوں کاکسی کا فیصلہ کر منصفی سے ہو نہیں سکتا

۷

مرا دشمن بظاہر چار دن کو دوست ہے تیراکسی کا ہو رہے یہ ہر کسی سے ہو نہیں سکتا

۸

پرسش کہوگے کیا وہاں جب یاں یہ صورت ہےادا اک حرف وعدہ نازکی سے ہو نہیں سکتا

۹

نہ کہئے گو کہ حال دل مگر رنگ آشنا ہیں ہمیہ ظاہر آپ کی کیا خامشی سے ہو نہیں سکتا

۱۰

کیا جو ہم نے ظالم کیا کرے گا غیر منہ کیا ہےکرے تو صبر ایسا آدمی سے ہو نہیں سکتا

۱۱

چمن میں ناز بلبل نے کیا جو اپنی نالے پرچٹک کر غنچہ بولا کیا کسی سے ہو نہیں سکتا

۱۲

نہیں گر تجھ پہ قابو دل ہے پر کچھ زور ہو اپناکروں کیا یہ بھی تو نا طاقتی سے ہو نہیں سکتا

۱۳

نہ رونا ہے طریقے کا نہ ہنسنا ہے سلیقے کاپریشانی میں کوئی کام جی سے ہو نہیں سکتا

۱۴

ہوا ہوں اس قدر محجوب عرض مدعا کر کےکہ اب تو عذر بھی شرمندگی سے ہو نہیں سکتا

۱۵

غضب میں جان ہے کیا کیجئے بدلہ رنج فرقت کابدی سے کر نہیں سکتے خوشی سے ہو نہیں سکتا

۱۶

مزا جو اضطراب شوق سے عاشق کو ہے حاصلوہ تسلیم و رضا و بندگی سے ہو نہیں سکتا

۱۷

خدا جب دوست ہے اے داغؔ کیا دشمن سے اندیشہہمارا کچھ کسی کی دشمنی سے ہو نہیں سکتا

۴ / ۱۷۹