جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا

ہوا ہوں اس قدر محجوب عرض مدعا کر کےکہ اب تو عذر بھی شرمندگی سے ہو نہیں سکتا

About this couplet

This is couplet 14 of 17 in “⁨جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Nawab Mirza Khan Dagh Dehlvi's Urdu book Kalam-e-Dagh (⁨کلامِ داغ⁩).

Read it in the poem

۱۴ / ۱۷