جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا
مزا جو اضطراب شوق سے عاشق کو ہے حاصلوہ تسلیم و رضا و بندگی سے ہو نہیں سکتا
About this couplet
This is couplet 16 of 17 in “جو ہو سکتا ہے اس سے وہ کسی سے ہو نہیں سکتا” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Nawab Mirza Khan Dagh Dehlvi's Urdu book Kalam-e-Dagh (کلامِ داغ).
Read it in the poem۱۶ / ۱۷