کلامِ داغردیف الف
باقی جہاں میں قیس نہ فرہاد رہ گیا
باقی جہاں میں قیس نہ فرہاد رہ گیاافسانہ عاشقوں کا فقط یاد رہ گیا
یہ سخت جاں تو قتل سے ناشاد رہ گیاخنجر چلا تو بازوئے جلاد رہ گیا
پابندیوں نے عشق کی بیکس رکھا مجھےمیں سو اسیریوں میں بھی آزاد رہ گیا
چشم صنم نے یوں تو بگاڑے ہزار گھراک کعبہ چند روز کو آباد رہ گیا
محشر میں جائے شکوہ کیا شکر یار کاجو بھولنا تھا مجھ کو وہی یاد رہ گیا
ان کی تو بن پڑی کہ لگی جان مفت ہاتھتیری گرہ میں کیا دل ناشاد رہ گیا
پر نور ہو رہے گا یہ ظلمت کدہ اگردل میں بتوں کا شوق خداداد رہ گیا
یوں آنکھ ان کی کر کے اشارہ پلٹ گئیگویا کہ لب سے ہو کے کچھ ارشاد رہ گیا
ناصح کا جی چلا تھا ہماری طرح مگرالفت کی دیکھ دیکھ کے افتاد رہ گیا
ہیں تیرے دل میں سب کے ٹھکانے برے بھلےمیں خانماں خراب ہی برباد رہ گیا
وہ دن گئے کہ تھی مرے سینے میں کچھ خراشاب دل کہاں ہے دل کا نشاں یاد رہ گیا
صورت کو تیری دیکھ کے کھنچتی ہے جان خلقدل اپنا تھام تھام کے بہزاد رہ گیا
اے داغؔ دل ہی دل میں گھلے ضبط عشق سےافسوس شوق نالہ و فریاد رہ گیا
۸ / ۱۷۹