کلامِ داغردیف الف

ادھر دیکھ لینا ادھر دیکھ لینا

۱

ادھر دیکھ لینا ادھر دیکھ لیناکن انکھیوں سے اس کو مگر دیکھ لینا

۲

فقط نبض سے حال ظاہر نہ ہوگامرا دل بھی اے چارہ گر دیکھ لینا

۳

کبھی ذکر دیدار آیا تو بولےقیامت سے بھی پیشتر دیکھ لینا

۴

نہ دینا خط شوق گھبرا کے پہلےمحل موقع اے نامہ بر دیکھ لینا

۵

کہیں ایسے بگڑے سنورتے بھی دیکھےنہ آئیں گے وہ راہ پر دیکھ لینا

۶

تغافل میں شوخی نرالی ادا تھیغضب تھا وہ منہ پھیر کر دیکھ لینا

۷

شب وعدہ اپنا یہی مشغلہ تھااٹھا کر نظر سوئے در دیکھ لینا

۸

بلایا جو غیروں کو دعوت میں تم نےمجھے پیشتر اپنے گھر دیکھ لینا

۹

محبت کے بازار میں اور کیا ہےکوئی دل دکھائے اگر دیکھ لینا

۱۰

مرے سامنے غیر سے بھی اشارےادھر بھی ادھر دیکھ کر دیکھ لینا

۱۱

نہ ہو نازک اتنا بھی مشاطہ کوئیدہن دیکھ لینا کمر دیکھ لینا

۱۲

نہیں رکھنے دیتے جہاں پاؤں ہم کواسی آستانے پہ سر دیکھ لینا

۱۳

تماشائے عالم کی فرصت ہے کس کوغنیمت ہے بس اک نظر دیکھ لینا

۱۴

دیے جاتے ہیں آج کچھ لکھ کے تم کواسے وقت فرصت مگر دیکھ لینا

۱۵

ہمیں جان دیں گے ہمیں مر مٹیں گےہمیں تم کسی وقت پر دیکھ لینا

۱۶

جلایا تو ہے داغؔ کے دل کو تم نےمگر اس کا ہوگا اثر دیکھ لینا

۷ / ۱۷۹