کلامِ داغردیف الف

آخر کو عشق کفر سے ایمان ہو گیا

۱

آخر کو عشق کفر سے ایمان ہو گیامیں بت پرستیوں سے مسلمان ہو گیا

۲

مے تو حلال ہے جو پئے ڈھب سے بادہ نوشمیں توبہ کر کے اور پشیمان ہو گیا

۳

رندان بے ریا کی ہے صحبت کسے نصیبزاہد بھی ہم میں بیٹھ کے انسان ہو گیا

۴

اس غنچے میں سمائی ہے وحشت برنگ بودل کتنی تنگیوں پہ بیابان ہو گیا

۵

لو اے بتو سنو کہ وہ داغؔ صنم پرستمسجد میں جا کے آج مسلمان ہو گیا

۱۰ / ۱۷۹