کلامِ داغردیف الف

تجھے نامہ بر قسم ہے وہیں دن سے رات کرنا

۱

تجھے نامہ بر قسم ہے وہیں دن سے رات کرناکوئی ایک بات پوچھے تو ہزار بات کرنا

۲

نہیں اور خوف قاصد مگر ایک بات کا ہےجو رقیب بھی وہاں ہو بہت التفات کرنا

۳

وہ ہو تیز رو نہ پائے کوئی تم کو حضرت دلرہ‌ دوست میں جو چلنا تو ہوا کو مات کرنا

۴

مرے دل کی قیمت اتنی نہ بڑھاؤ کون لے گاجو تمہیں نہ جانتا ہو یہ اسی سے گھات کرنا

۵

نکل آئیں گے وہ باہر وہیں شور سن کے اے دلکبھی ان کے کے گھر پہ جا کر کوئی واردات کرنا

۶

وہ کریم کیا نہیں ہے وہ رحیم کیا نہیں ہےکبھی داغؔ بھول کر بھی نہ غم نجات کرنا

۱۱ / ۱۷۹