ستم ہی کرنا جفا ہی کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرنا

مری تو ہے بات زہر ان کو وہ ان کے مطلب ہی کی نہ کیوں ہوکہ ان سے جو التجا سے کہنا غضب ہے ان کو وہی نہ کرنا

About this couplet

This is couplet 7 of 13 in “⁨ستم ہی کرنا جفا ہی کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرنا⁩” in the section Ghazals — Radeef Alif, from Nawab Mirza Khan Dagh Dehlvi's Urdu book Kalam-e-Dagh (⁨کلامِ داغ⁩).

Read it in the poem

۷ / ۱۳