کلامِ داغردیف الف

ستم ہی کرنا جفا ہی کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرنا

۱

ستم ہی کرنا جفا ہی کرنا نگاہ الفت کبھی نہ کرناتمہیں قسم ہے ہمارے سر کی ہمارے حق میں کمی نہ کرنا

۲

ہماری میت پہ تم جو آنا تو چار آنسو بہا کے جاناذرا رہے پاس آبرو بھی کہیں ہماری ہنسی نہ کرنا

۳

کہاں کا آنا کہاں کا جانا وہ جانتے ہی نہیں یہ رسمیںوہاں ہے وعدے کی بھی یہ صورت کبھی تو کرنا کبھی نہ کرنا

۴

لیے تو چلتے ہیں حضرت دل تمہیں بھی اس انجمن میں لیکنہمارے پہلو میں بیٹھ کر تم ہمیں سے پہلو تہی نہ کرنا

۵

نہیں ہے کچھ قتل ان کا آساں یہ سخت جاں ہیں برے بلا کےقضا کو پہلے شریک کرنا یہ کام اپنی خوشی نہ کرنا

۶

ہلاک انداز وصل کرنا کہ پردہ رہ جائے کچھ ہماراغم جدائی میں خاک کر کے کہیں عدو کی خوشی نہ کرنا

۷

مری تو ہے بات زہر ان کو وہ ان کے مطلب ہی کی نہ کیوں ہوکہ ان سے جو التجا سے کہنا غضب ہے ان کو وہی نہ کرنا

۸

ہوا اگر شوق آئنے سے تو رخ رہے راستی کی جانبمثال عارض صفائی رکھنا برنگ کاکل کجی نہ کرنا

۹

وہ ہی ہمارا طریق الفت کہ دشمنوں سے بھی مل کے چلنایہ ایک شیوہ ترا ستم گر کہ دوست سے دوستی نہ کرنا

۱۰

ہم ایک رستہ گلی کا اس کی دکھا کے دل کو ہوئے پشیماںیہ حضرت خضر کو جتا دو کسی کی تم رہبری نہ کرنا

۱۱

بیان درد فراق کیسا کہ ہے وہاں اپنی یہ حقیقتجو بات کرنی تو نالہ کرنا نہیں تو وہ بھی کبھی نہ کرنا

۱۲

مدار ہے ناصحو تمہیں پر تمام اب اس کی منصفی کاذرا تو کہنا خدا لگی بھی فقط سخن پروری نہ کرنا

۱۳

بری ہے اے داغؔ راہ الفت خدا نہ لے جائے ایسے رستےجو اپنی تم خیر چاہتے ہو تو بھول کر دل لگی نہ کرنا

۱۳ / ۱۷۹