کلامِ داغردیف الف
منتوں سے بھی نہ وہ حور شمائل آیا
۱
منتوں سے بھی نہ وہ حور شمائل آیاکس جگہ آنکھ لڑی ہائے کہاں دل آیا
۲
ہم نہ کہتے تھے نہ کر عشق پشیماں ہوگاجو کیا تو نے وہ آگے ترے اے دل آیا
۳
قہقہے قلقل مینا نے لگائے کیا کیامجھ کو مستی میں جو رونا سر محفل آیا
۴
قتل کی سن کے خبر عید منائی میں نےآج جس سے مجھے ملنا تھا گلے مل آیا
۵
تا دم مرگ نہ ہو وہ مرے دشمن کو نصیبجو مزا مجھ کو الٰہی دم بسمل آیا
۶
مرقد قیس پر اب تک بھی تو خار صحراانگلیوں سے یہ بتاتے ہیں وہ محمل آیا
۷
گنج قاروں کے سوا بھی ہے عدم میں سب کچھہائے دنیا میں نہ اس ملک کا حاصل آیا
۸
جس نے کچھ ہوش سنبھالا وہ جواں قتل ہواعہد پیری نہ ترے عہد میں قاتل آیا
۹
دین و دنیا سے گیا تو یہ سمجھ لے اے داغؔغضب آیا اگر اس بت پہ ترا دل آیا
۲۴ / ۱۷۹