کلامِ داغردیف الف

غیر کو منہ لگا کے دیکھ لیا

۱

غیر کو منہ لگا کے دیکھ لیاجھوٹ سچ آزما کے دیکھ لیا

۲

ان کے گھر داغؔ جا کے دیکھ لیادل کے کہنے میں آ کے دیکھ لیا

۳

کتنی فرحت فزا تھی بوئے وفااس نے دل کو جلا کے دیکھ لیا

۴

کبھی غش میں رہا شب وعدہکبھی گردن اٹھا کے دیکھ لیا

۵

جنس دل ہے یہ وہ نہیں سوداہر جگہ سے منگا کے دیکھ لیا

۶

لوگ کہتے ہیں چپ لگی ہے تجھےحال دل بھی سنا کے دیکھ لیا

۷

جاؤ بھی کیا کرو گے مہر و وفابارہا آزما کے دیکھ لیا

۸

زخم دل میں نہیں ہے قطرۂ خوںخوب ہم نے دکھا کے دیکھ لیا

۹

ادھر آئینہ ہے ادھر دل ہےجس کو چاہا اٹھا کے دیکھ لیا

۱۰

ان کو خلوت سرا میں بے پردہصاف میدان پا کے دیکھ لیا

۱۱

اس نے صبح شب وصال مجھےجاتے جاتے بھی آ کے دیکھ لیا

۱۲

تم کو ہے وصل غیر سے انکاراور جو ہم نے آ کے دیکھ لیا

۱۳

داغؔ نے خوب عاشقی کا مزاجل کے دیکھا جلا کے دیکھ لیا

۲۶ / ۱۷۹