کلامِ داغردیف الف

وہ اس ادا سے وہاں جا کے شرمسار آیا

۱

وہ اس ادا سے وہاں جا کے شرمسار آیارقیب پر مجھے بے اختیار پیار آیا

۲

یہ حال تھا شب وعدہ کہ تا بہ راہ گزرہزار بار گیا میں ہزار بار آیا

۳

ترا ہی کوچہ ٹھکانہ ہے خاکساروں کاجو زندہ آ نہ سکا میں مرا غبار آیا

۴

مزے اڑائے وہاں خوش رہا لیا انعامیہاں جو نامہ بر آیا تو اشک بار آیا

۵

گزر گئے اسی گردش میں اپنے لیل و نہارشب فراق گئی روز انتظار آیا

۶

اڑائے ہیں ملک الموت نے بھی تیرے ڈھنگہزار بار بلایا تو ایک بار آیا

۷

خدا کے واسطے جھوٹی نہ کھائیے قسمیںمجھے یقین ہوا مجھ کو اعتبار آیا

۸

کہاں تھے شب کو تمہیں کچھ خبر بھی ہے کہ نہیںکوئی پکارنے والا بہت پکار آیا

۹

کمال عشق کو فرہاد و قیس کب پہنچےوہ پختہ کار ہے دل جس کا بار بار آیا

۱۰

وہ کیوں ہوئے مرے مشتاق خیر ہو یا ربطلب میں کل ہی خط آیا تھا آج تار آیا

۱۱

پلا دے آج سر شام مجھ کو اے ساقیکہ تیری بزم میں اک میں ہی روزہ دار آیا

۱۲

ڈرے جو حشر میں وہ مجھ کو دیکھتے ہی کہامرا رفیق مرا داغؔ جاں نثار آیا

۲۷ / ۱۷۹