کلامِ داغردیف ے

اس کے در تک کسے رسائی ہے

۱

اس کے در تک کسے رسائی ہےوہ ہی جائے گا جس کی آئی ہے

۲

بات اک دل میں میرے آئی ہےگر کہوں تو ابھی لڑائی ہے

۳

دوسری جان ہے تری الفتایک کھوئی ہے ایک پائی ہے

۴

بھر دیا زخم میں نمک اس نےیہ دعا گو کی منہ بھرائی ہے

۵

سچ ہے بے عیب ہے خدا کی ذاتتجھ میں کیا جانے کیا برائی ہے

۶

اے لب یار تجھ کو میری قسمکبھی سچی قسم بھی کھائی ہے

۷

اس کے در تک پہنچ گیا قاصدآگے تقدیر کی رسائی ہے

۸

قتل کرتی ہے گفتگو ان کیبات میں بات کی صفائی ہے

۹

داغؔ اب وصل کا وصال ہوایار زندہ غم جدائی ہے

۱۳۱ / ۱۷۹