کلامِ داغردیف ے
آپ کا اعتبار کون کرے
۱
آپ کا اعتبار کون کرےروز کا انتظار کون کرے
۲
ذکر مہر و وفا تو ہم کرتےپر تمہیں شرمسار کون کرے
۳
ہو جو اس چشم مست سے بے خودپھر اسے ہوشیار کون کرے
۴
تم تو ہو جان اک زمانے کیجان تم پر نثار کون کرے
۵
آفت روزگار جب تم ہوشکوۂ روزگار کون کرے
۶
اپنی تسبیح رہنے دے زاہددانہ دانہ شمار کون کرے
۷
ہجر میں زہر کھا کے مر جاؤںموت کا انتظار کون کرے
۸
آنکھ ہے ترک زلف ہے صیاددیکھیں دل کا شکار کون کرے
۹
وعدہ کرتے نہیں یہ کہتے ہیںتجھ کو امیدوار کون کرے
۱۰
داغؔ کی شکل دیکھ کر بولےایسی صورت کو پیار کون کرے
۱۳۰ / ۱۷۹